سیرت النبی ﷺ *مصنف* ڈاکٹر اسرار ایک مشہور اسلامی اسکالر، مقرر اور مصنف تھے۔ وہ قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ کو آسان انداز میں بیان کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اسلام پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ اور اثر انگیز تھا،انہوں نے 60 سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ان کی سیرت پر لکھی گئی مشہور کتابوں میں سیرت النبی ﷺ اور سیرتِ خیر الانام ﷺ شامل ہیں. *کتاب* سیرتِ محمد ﷺ میں نبی کریم ﷺ کی زندگی، اخلاق، دعوتِ اسلام، ہجرت اور غزوات کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی دینا اور اچھے اخلاق و اسلامی تعلیمات سمجھانا ہے۔ "ولادت با سعادت سے بعثت تک" 1.ولادت سے پہلے حضورﷺ کی برکات کا ظہور: حضور ﷺ کی ولادت سے پہلے کئی غیر معمولی واقعات پیش آئے جو آپ ﷺ کی آمد کی خوشخبری تھے۔ آپ ﷺ کی والدہ حضرت آمنہؓ کو خواب میں بتایا گیا کہ ان کے بطن میں امت کا سردار ہے اور اس کا نام محمد ﷺ رکھنا۔ انہوں نے ایک نور بھی دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا حمل بہت آسان تھا اور انہیں عام عورتوں کی طرح تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ 2.آنحضرت ﷺ کا نسب شریف نبی کریم ﷺ کا نسب دنیا کے تمام خاندانوں سے زیادہ پاک اور معزز تھا۔ آپ ﷺ کا نسب والد کی طرف سے حضرت عدنان تک پہنچتا ہے۔ والدہ کی طرف سے آپ ﷺ کا نسب حضرت آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ ہے۔ اس طرح کلاب پر آپ ﷺ کا مادری اور پدری نسب مل جاتا ہے۔ 3.آنحضرت ﷺ کی ولادت باسعادت نبی کریم ﷺ کی ولادت ربیع الاول میں عام الفیل کے سال ہوئی جب ابرہہ نے کعبہ پر حملہ کیا اور اللہ نے ابابیل کے ذریعے اسے شکست دی۔ اس سال کو آپ ﷺ کی آمد کی برکت سمجھا جاتا ہے۔ 4.حضور ﷺ کی رضاعت: آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے کیونکہ والد پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دادا عبدالمطلب نے پرورش کی اور حلیمہ سعدیہؓ کو رضاعت کے لیے دیا گیا، جن کے گھر آپ ﷺ کی آمد سے برکت آ گئی۔ 5.حضورﷺ کا لڑکپن: آپ ﷺ بچپن سے سچے، امانت دار اور پاکیزہ تھے۔ کبھی جھوٹ، لڑائی یا برے کام نہیں کیے۔ جوانی میں بھی آپ ﷺ صادق اور امین کے لقب سے مشہور رہے اور برائیوں سے دور رہے۔ 6.شقِ صدر: نبی کریم ﷺ بچپن میں بنو سعد میں تھے جب شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا۔ دو فرشتے آئے، آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا، دل کو دھو کر پاکیزہ کیا اور نور و سکینت سے بھر دیا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی نبوت کی تیاری کے طور پر تھا۔ 7.حربِ فجار اور حلف الفضول: حربِ فجار قریش اور بنو ہوازن کے درمیان جنگ تھی جس میں آپ ﷺ بھی نوجوانی میں اپنے چچاؤں کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس کے بعد حلف الفضول ہوا جس میں مکہ کے سرداروں نے ظلم کے خلاف اور مظلوم کی مدد کا معاہدہ کیا، اور آپ ﷺ نے بھی اس میں حصہ لیا۔ 8۔تجارت کا آغاز اور ملکِ شام کا سفر پہلا سفرِ شام دادا کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے آپ ﷺ کی پرورش کی۔ جب آپ ﷺ کی عمر 12 سال ہوئی تو ابو طالب آپ ﷺ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے شام گئے۔ راستے میں بحیرا راہب نامی ایک عالم نے آپ ﷺ کو دیکھا اور ابو طالب سے کہا کہ یہ بچہ مستقبل میں اللہ کا نبی ہوگا، اس لیے اس کی حفاظت کریں۔ دوسرا سفرِ شام حضرت خدیجہؓ ایک مالدار اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری دیکھ کر اپنا تجارتی مال آپ ﷺ کے حوالے کیا۔ آپ ﷺ ان کے غلام میسرہ کے ساتھ شام گئے، تجارت میں بہت نفع حاصل کیا اور کامیابی سے واپس آئے۔ اس سے حضرت خدیجہؓ بہت متاثر ہوئیں۔ 9.بیت اللہ کی تعمیر میں رسول اللہ ﷺ کی شرکت جب آپ ﷺ کی عمر 35 سال تھی تو قریش نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی۔ آپ ﷺ بھی اپنے چچا حضرت عباسؓ کے ساتھ پتھر اٹھانے میں شریک تھے۔ جب حجرِ اسود رکھنے کا وقت آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ فیصلہ ہوا کہ پہلے آنے والا شخص فیصلہ کرے گا۔ وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ نے حکمت سے چادر بچھا کر حجرِ اسود رکھا اور سب قبائل سے مل کر اسے جگہ پر رکھوا دیا، یوں بڑا جھگڑا ختم ہوگیا۔ "نبوت کا مکی دور" 1.بعثت اور دعوتِ اسلامبعثت: 40 سال کی عمر میں غارِ حرا میں حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے پہلی وحی ("اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ...") کا نزول ہوا، جو نبوت کا آغاز تھا۔دعوت: ابتدائی تین سال دعوتِ اسلام خاموشی سے (پوشیدہ) رہی، جس میں قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کو اسلام کی دعوت دی گئی۔ 2.اعلانیہ دعوتِ اسلامجب: اللہ تعالیٰ کا حکم آیا ("فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ")، تو آپؐ نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کو پکارا اور اعلانیہ توحید کی دعوت دی۔اس پر قریش نے سخت ردعمل دیا، خاص طور پر ابولہب نے بدزبانی کی، جس پر سورہ لہب نازل ہوئی 3. قریش کی ایذاء رسانی اور استقامت: اعلانِ حق کے بعد قریش نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر شدید ظلم کیا۔ آپ ﷺ کو جادوگر، مجنون اور جھوٹا کہا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے اور نماز کے دوران تکلیف دی گئی۔ حضرت بلالؓ، خبابؓ اور یاسرؓ کے خاندان کو سخت اذیتیں دی گئیں۔ اس کے باوجود نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ اپنے دین پر ثابت قدم رہے اور دعوتِ اسلام جاری رکھی۔ 4:ہجرتِ حبشہ: مکہ کے ظلم سے بچنے کے لیے کچھ صحابہ حبشہ گئے۔ وہاں عیسائی بادشاہ نجاشی نے انہیں پناہ دی۔ 5:غم اور ام المومنین سیدہ خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات: نبوت کے دسویں سال، شعب ابی طالب (بائیکاٹ) سے نکلنے کے کچھ عرصہ بعد، آپؐ کے دو بڑے سہارے دنیا سے رخصت ہو گئے۔حضرت ابوطالب: آپؐ کے چچا اور سماجی محافظ۔حضرت خدیجہؓ: آپؐ کی زوجہ محترمہ اور جذباتی و مالی سہارا۔ان کی وفات کی وجہ سے اس سال کو "عام الحزن" (غم کا سال) کہا جاتا ہے. 6. واقعہ اسراء و معراج: غم کے اس دور کے بعد، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو تسلی اور شرفِ ملاقات کے لیے معراج کا معجزہ عطا کیا۔ آپؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ (اسراء) اور پھر آسمانوں (معراج) کا سفر کیا۔ اس سفر میں پانچ وقت کی نماز تحفے میں ملی۔ 7. بیعتِ عقبہ (اول اور ثانی): یہ وہ اہم موڑ تھا جس نے اسلام کو مکہ سے مدینہ منتقل کیا۔ بیعتِ عقبہ اول (12 نبوی): یثرب (مدینہ) کے 12 افراد نے عقبہ کے مقام پر آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بیعتِ عقبہ ثانی (13 نبوی): مدینہ کے مرد اور خواتین نے بیعت کی اور نبی کریمؐ کو مدینہ آنے کی دعوت دی اور آپؐ کی حفاظت کا عہد کیا۔ "نبوت کا مدنی دور" 1. ہجرتِ مدینہ کی ابتداء قریش کے ظلم سے تنگ آ کر اللہ کے حکم سے نبی ﷺ نے مدینہ ہجرت کا فیصلہ کیا۔ صحابہ بھی آہستہ آہستہ مدینہ جانے لگے۔ 2. نبی کریم ﷺ کی ہجرتِ مدینہ اللہ کے حکم پر آپ ﷺ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش آپ ﷺ کو روکنا چاہتے تھے مگر اللہ نے حفاظت فرمائی۔ 3. غارِ ثور میں قیام ہجرت کے دوران آپ ﷺ تین دن غارِ ثور میں چھپے رہے۔ قریش تلاش کرتے رہے مگر اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ 4. غارِ ثور سے روانگی تین دن بعد آپ ﷺ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں عبداللہ بن اریقط رہنمائی کرتا رہا۔ 5. نزولِ قبا آپ ﷺ مدینہ پہنچنے سے پہلے قبا کے مقام پر رکے۔ وہاں پہلی مسجد “مسجدِ قبا” کی بنیاد رکھی گئی۔ 6. مدینہ میں داخلہ آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو انصار نے خوشی سے استقبال کیا۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ آپ ﷺ اس کے گھر قیام کریں۔ 7. مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ میں آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کا پہلا مرکز بنا۔ 8. انصار کا ایثار اور مہاجرین کا استغناء انصار نے مہاجرین کی ہر ممکن مدد کی۔ مہاجرین نے صبر اور خودداری دکھائی اور ایک دوسرے کے بھائی بن گئے۔ 9. تحویلِ قبلہ پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے، پھر اللہ کے حکم سے قبلہ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ 10. صلحِ حدیبیہ 6 ہجری میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہوئی۔ یہ بظاہر سخت شرائط والی صلح تھی مگر بعد میں اسلام کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنی۔ 11. سلاطینِ دنیا کو دعوتی خطوط نبی کریم ﷺ نے مختلف بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی، جیسے قیصرِ روم، کسریٰ ایران اور نجاشی۔ ان خطوط میں انہیں توحید قبول کرنے کی دعوت دی گئی۔ 12. وفود کی مدینہ میں حاضری مختلف قبائل کے وفود مدینہ آ کر اسلام قبول کرتے رہے۔ وہ نبی ﷺ سے دین سیکھتے اور واپس جا کر اپنی قوم کو تبلیغ کرتے تھے۔ 13.خطبہ حجۃ الوداع: خطبہ حجۃ الوداع نبی کریم ﷺ کا آخری حج کے موقع پر دیا گیا اہم خطبہ ہے جو عرفات اور منٰی کے میدانوں میں بڑے اجتماع کے سامنے ارشاد فرمایا گیا۔ یہ خطبہ اسلام کا ایک مکمل انسانی حقوق کا منشور اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس خطبے میں نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ جان، مال اور عزت کی حرمت کا خیال رکھو قتل، زنا اور چوری سے بچو نماز قائم کرو، روزہ رکھو، زکوٰۃ ادا کرو اور حج کرو عورتوں اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت صرف تقویٰ سے ہے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی یہ خطبہ اسلام کا مکمل اخلاقی اور معاشرتی نظام واضح کرتا ہے۔ 14.وفات النبی ﷺ نبی کریم ﷺ کی وفات مرضِ نبوی کے دوران مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بیماری کے دوران آپ ﷺ بار بار نماز اور امت کی فکر فرماتے رہے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نماز کی امامت کا حکم دیا۔ وفات سے پہلے آپ ﷺ نے آخری بار مسجد میں تشریف لے جا کر نماز ادا کی۔ اسی حالت میں آپ ﷺ کا انتقال ہو گیا، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی غم کا لمحہ تھا۔ صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کی جدائی پر بہت رنجیدہ ہوئے، لیکن حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں، اور اللہ ہمیشہ زندہ ہے۔ 12 ربیع الاول 11 ہجری کو نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا۔ آپ ﷺ مدینہ میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں دفن ہوئے۔ یہ امت کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ سیرتِ نبی ﷺ پڑھنا کیوں ضروری ہے؟ سیرتِ نبی ﷺ کی کتاب پڑھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی، اخلاق، عادات اور اسلام کی تعلیمات کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے مشکلات کا سامنا کیسے کیا، لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور اسلام کو کیسے پھیلایا۔ سیرتِ نبوی ﷺ پڑھنے سے ہمارے اخلاق بہتر ہوتے ہیں، ایمان مضبوط ہوتا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کو اسلامی طریقے کے مطابق گزارنے کی رہنمائی ملتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں صبر، سچائی، محبت، انصاف اور انسانیت کا درس دیتی ہے، اسی لیے ہر مسلمان کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ کو پڑھنا اور سمجھنا بہت اہم ہے۔۔