Nadeem

Nadeem

@Nadeem Ali
0Uses
0Shares
0Likes
0Saved by

گرم ریت پر تپتا ہوا مکہ… ظلم کا دور… اور ایک کمزور غلام جس کے پاس نہ طاقت تھی نہ قبیلہ، مگر اس کے دل میں ایسا ایمان تھا جسے دنیا کی کوئی طاقت ہلا نہ سکی۔ یہ کہانی ہے Bilal ibn Rabah کی۔ وہ حبشہ سے تعلق رکھنے والے غلام تھے، مکہ میں اُمیہ بن خلف کے قبضے میں۔ جب اسلام کی روشنی مکہ میں پھیلنی شروع ہوئی، تو بلالؓ نے سچ کو پہچان لیا۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسولِ خدا Muhammad کی رسالت پر ایمان قبول کیا۔ لیکن ایمان کی قیمت ادا کرنی تھی۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ ان کے مالک انہیں سخت سزا دیتا، تپتی زمین پر لٹاتا اور ان پر بھاری پتھر رکھ دیتا تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ مگر ہر اذیت کے جواب میں بلالؓ کی زبان سے ایک ہی لفظ نکلتا: “اَحد… اَحد” (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے) یہ صرف الفاظ نہ تھے، یہ اعلان تھا کہ ایمان جسم سے نہیں، دل سے ہوتا ہے۔ جب مسلمانوں پر ظلم بڑھا تو Abu Bakr نے بلالؓ کی حالت دیکھی۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ انہوں نے بلالؓ کو خرید کر آزاد کر دیا، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔ آزادی کے بعد بھی بلالؓ کی زندگی سادگی اور عبادت سے بھری رہی۔ ان کی آواز میں ایسی تاثیر تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اذان دینے کا شرف عطا کیا۔ یوں وہ اسلام کے پہلے مؤذن بنے۔ مدینہ میں جب پہلی بار اذان بلند ہوئی، تو یہ صرف نماز کی پکار نہ تھی، یہ اسلام کی سربلندی کی آواز تھی — اور یہ آواز بلالؓ کی تھی۔ فتح مکہ کے دن، وہی بلالؓ جنہیں کبھی مکہ کی ریت پر ستایا گیا تھا، کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دے رہے تھے۔ یہ منظر اس بات کی گواہی تھا کہ اللہ اپنے صابر بندوں کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ بلالؓ سے فرمایا کہ انہوں نے جنت میں ان کے قدموں کی آہٹ سنی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ذکر ہے۔ یہ ان کے اخلاص اور عمل کی گواہی تھی۔ بلالؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان طاقت سے نہیں، سچائی سے جیتتا ہے۔ جسم کمزور ہو سکتا ہے، مگر یقین مضبوط ہو تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ یہ کہانی ایک غلام کی نہیں، یہ کہانی ایمان کی آزادی کی ہے۔

urMaleMiddle AgedNarrationEducationalDeepProfessionalCalmClearUrdu
Public
Use Voice
Samples
There's no audio samples yet