ہی فرحاناس، تجھے میں نے کتنی دفعہ سمجھانے کی کوشش کی ہے بیٹی کہ اتنا پانی نہ بہایا کر۔ تم نے تو سارا پانی ہی ختم کر دیا ہے۔ پہلے بھی تم نے اسی طرح ایک گھر میں آگ لگا دی تھی۔ میں تمہیں بار بار سمجھا رہی ہوں کہ اتنا پانی ضائع نہ کیا کرو اور اتنی دیر تک باتھ روم میں مت رہا کرو۔ تم نے تو حد ہی کر دی ہے، چکوال کا سارا پانی ختم کر دیا ہے۔ اگر تم نے اب بھی بات نہ مانی تو مجھے خود آنا پڑے گا۔ میں تمہیں سختی سے منع کر رہی ہوں کہ اب مزید پانی ضائع مت کرو۔