دوستوں میں کیا یار میرے، سبھی کے سبھی غدار ملے، جن پہ رکھا تھا دل کبھی، وہی دل کے قرضدار ملے۔ راتوں کو یاد کر کے جنہیں، آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، صبح ہوئی تو پتا چلا، وہ بس خوابوں کے کردار ملے۔ ہم نے تو ہر درد چھپا کر، ان کی خوشی میں جینا سیکھا، وہ تھے کہ ہمیں توڑ کر بھی، خود کو سمجھدار ملے۔ اب کسی سے کیا گلہ کریں، قسمت ہی کچھ ایسی نکلی، جہاں بھی ہاتھ بڑھایا میں نے، بس خاموشی ہی نکلی