شہیدِ حریت مقبول بٹؒ — مزاحمت کی ابدی صدا شہید مقبول بٹؒ… کشمیر کا وہ فرزندِ دلیر جو اپنی جان سے گزر گیا، مگر قابض بھارتی فوج اور سامراجی نظام کے منہ پر ایک لازوال پیغام ثبت کر گیا۔ تہاڑ جیل کی تاریک کال کوٹھڑی میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر اس نے ثابت کیا کہ حریت صرف نعرہ نہیں— یہ ایک عہد ہے، جو جان دے کر بھی نبھایا جاتا ہے۔ اور جب میّت بھی واپس نہ کی جائے، تب بھی مزاحمت زندہ رہتی ہے، کیونکہ شہداء کو زمین نہیں نگلتی— وہ قوموں کے شعور میں دفن ہوتے ہیں۔ ترگام، کپواڑہ کا وہ خوبرو، خوش گفتار، علم و دانش سے آراستہ نوجوان— پشاور یونیورسٹی سے ماسٹرز، پھر ایل ایل بی— مگر اس کی اصل ڈگری آزادی کی درسگاہ سے تھی۔ مقبول بٹؒ جدوجہد کا استعارہ تھا، وہ عزم جس نے کہا: "وطن کی زنجیریں ٹوٹ سکتی ہیں اگر قوم قربانی کا حوصلہ رکھتی ہو۔" اس کی حکمتِ عملی وہی تھی جو ہر سچے حریت پسند کی ہوتی ہے— جان رہے تو غازی، نہ رہے تو شہید۔ شہادت چاہے جیل کی دیواروں میں آئے، پھانسی کے پھندے پر جھولتے ہوئے آئے یا میدانِ عمل میں— کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے جو حق کے لیے ڈٹ جائے۔ مقبول بٹؒ کامیاب ہوا— کیونکہ اس نے کشمیر کو سکھا دیا کہ آزادی قیمت مانگتی ہے، اور وہ قیمت خون سے ادا ہوتی ہے۔ اس کا پیغام زنجیروں کی جھنکار میں گونجتا ہے: سکون نہیں، خاموشی نہیں، رکنا نہیں— آزادی تمہارا حق ہے۔ کچھ لوگ تھک جائیں گے، کچھ راستہ بدل لیں گے، کچھ سودے بازی کریں گے— مگر جو استقامت کے دوش پر عزم کو اٹھائے رکھیں گے، منزل انہی کے قدم چومے گی۔ شہید مقبول بٹؒ کوٹھڑی کی دیواروں میں قید نہیں— وہ ہر اُس دل میں زندہ ہے جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ اور جب تک انکار زندہ ہے، مزاحمت زندہ ہے۔