کیا آپ جانتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار ایسا واقعہ پیش آیا جس پر پہلے سب حیران ہوئے اور پھر مسکرا دیے یہ واقعہ ایک ایسے صحابی سے متعلق ہے جو اپنی خوش مزاجی اور مزاح کی وجہ سے مشہور تھے آج ہم آپ کو مدینہ کی ایک سچی اور دلچسپ کہانی سناتے ہیں صدیوں پہلے عرب کے ریگستان میں ایک شہر تھا جسے مدینہ کہا جاتا تھا یہ شہر سادگی امن اور ایمان کی روشنی سے روشن تھا مٹی کے گھروں کے درمیان تنگ گلیاں تھیں کھجور کے درخت گرم ہوا میں آہستہ آہستہ جھومتے تھے ریت پر چلتے قدموں کی آواز اور بازار کی ہلکی چہل پہل اس شہر کی پہچان تھی اسی مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رہتے تھے وہ سادہ لباس پہنتے تھے اور عاجزی اور اخلاص کے ساتھ زندگی گزارتے تھے ان صحابہ میں ایک شخصیت خاص طور پر مشہور تھی ان کا نام نعیمان بن عمرو تھا وہ نہایت خوش مزاج انسان تھے لوگوں کو ہنسا دینا ان کی عادت تھی کبھی کبھی وہ ایسا مذاق کر دیتے تھے جس سے مجلس میں ہلکی سی ہنسی پھیل جاتی تھی ایک دن مدینہ کی فضا پرسکون تھی لوگ مسجد کے قریب اپنے کاموں میں مصروف تھے اسی وقت ایک بدوی مسافر اپنے اونٹ کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوا اس کا چہرہ سفر کی تھکن سے بھرا ہوا تھا اس نے اپنے اونٹ کو مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت سے باندھ دیا پھر وہ کسی کام سے شہر کے اندر چلا گیا ادھر چند صحابہ ایک جگہ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے ریت کے ذرے گرم ہوا میں ہلکے ہلکے اڑ رہے تھے باتوں کے دوران کسی نے ہنستے ہوئے کہا کاش ہمیں اونٹ کا گوشت مل جائے تو آج اچھی دعوت ہو جائے یہ بات نعیمان بن عمرو نے بھی سن لی ان کے چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ آ گئی وہ آہستہ آہستہ اٹھے اور اس اونٹ کی طرف چل پڑے ریت پر ان کے قدموں کے نشان واضح ہوتے جا رہے تھے اونٹ کھجور کے درخت کے پاس خاموشی سے کھڑا تھا چند ہی لمحوں بعد نعیمان نے وہ اونٹ ذبح کر دیا اچانک ماحول بدل گیا ریت اڑی اور قریب موجود لوگ حیران رہ گئے کچھ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھوڑی دیر بعد وہ بدوی واپس آیا جیسے ہی اس کی نظر اپنے اونٹ پر پڑی تو وہ رک گیا اس کے چہرے پر حیرت اور غم ظاہر ہو گیا وہ پریشانی سے بول اٹھ